اردو اور انگریزی کا جھگڑا ایمان اور کفر کی لڑائی
کوئی بھی برصغیر کا نقشہ دیکھے گا تو اسے لازمی معلوم ہوگا کہ پاکستان باقی برصغیر سے مختلف ہے، اس لیے کہ ہم برصغیر کا وہ واحد ملک ہیں جس کی زبانیں عربی حروف میں لکھی جاتی ہیں۔ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے، کیونکہ ان حروف کا علم ہمیں قرآن مجید پڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ اردو زبان بھارت میں نیم مردہ ہے، جبکہ بنگالی، مالدوی اور دوسری جنوب ایشیائی مسلمان اپنی زبانیں دوسرے حروف میں لکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں قرآن کے علم کا سفر ان کے لیے زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔
اگر یہ کہانی کا اختتام ہوتا تو میں اس پیراگراف کے بعد مزید نہ لکھتا۔ مگر انگریزی کے پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستان کی انفرادیت خطرے میں ہے، اور انفرادیت سے مراد صرف لسانی انفرادیت نہیں بلکہ ثقافتی انفرادیت بھی ہے۔ یہ خطرہ پاکستانی مسلمانوں کے ایمان اور وطنیت کو کمزور بناتا ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ انگریزی پاکستان میں وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ انگریزی کا استعمال کرنے کو ترجیح دیتا ہے، اور بالخصوص نوجوان بھی انگریزی کے بڑے شوقین ہیں۔ نئی نسل کے نزدیک اردو کا مقام صرف شاعری اور عام گفتگو تک محدود ہے، جبکہ لمبی شکل اور پیچیدہ تحریریں صرف انگریزی میں ہونی چاہئیں۔ یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ یہ بےغیرتی پاکستانیوں میں پائی جاتی ہے، جبکہ زیادہ تر دوسری اقوام میں نہیں۔
صورتحال مزید سنجیدہ لگتی ہے جب آپ کو پتہ چلے گا کہ ہم انگریزی کو اردو کی جگہ دے رہے ہیں۔ یہاں میں انگریزی کی تین تعریفیں پیش کروں گا۔ سب سے پہلے یہ کہ انگریزی دنیا کی رابطہ زبان ہے۔ ہم اپنی ثقافت کو چھوڑ کر انگریزی کو اپناتے ہیں کیونکہ ہم ایک سست قوم ہیں جو محنت کے عادی نہیں۔ قومی ترقی میں یہ عدم دلچسپی ہمارے ملک کی قابل رحم حالت کی بڑی حد تک وضاحت کرتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انگریزی ہمارے سابق ظالموں کی زبان ہے۔ جس وقت عرب، جنوب مشرقی ایشیائی اور بعد از سوویت ممالک اپنے سابق آقاؤں کی زبانوں کو ترک کر کے غیرت کا اظہار کرتے ہیں، اس وقت ہم اب بھی رابرٹ کلائیو اور جرنیل ڈائر کی ثقافت کے مداح بنے ہوئے ہیں۔ ہم انگریزی سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ ہم نے ایک نیم انگریزی لہجہ پیدا کر لیا ہے جسے برطانوی اور امریکی لوگ مذاق بناتے ہیں۔ کچھ لوگ غلط سمجھتے ہیں کہ انگریزی کو ترجیح دینا گوروں سے احترام ملنے کا باعث بنے گا، لیکن میں بطور ایک پاکستانی نژاد امریکی کہہ سکتا ہوں کہ نہ صرف گورے بلکہ دنیا میں زیادہ تر لوگ ان کا احترام کرتے ہیں جو خود کا احترام کرتے ہیں، اور پاکستانیوں نے اب تک یہ مہارت نہیں سیکھی۔
لیکن، جیسا کہ میں نے عنوان میں لکھا، انگریزی زبان کی تیسری علامت یہ ہے کہ یہ کافروں کی زبان ہے۔ برصغیر میں انگریزی زبان کو کافروں نے پھیلایا، اور زیادہ تر انگریزی بولنے والے کافر ہیں۔ اب یہ کون سا “اسلام کا قلعہ” ہے جو ایسی زبان کے پھیلاؤ کی اجازت دیتا ہے؟ بےشک یہ قلعہ بہت نازک ہے! صرف یہ عنصر کافی ہے کہ ہم پاکستان سے انگریزی ہٹا دیں۔ ایک مسلمان ملک کو اسلامی ثقافت کو فروغ دینا چاہیے۔ ملک میں غیر اسلامی شعور کا پھیلاؤ پاکستان کی اسلامی طبیعت کو خطرے میں ڈالتا ہے اور اس کی محض وجود کو بے معنی بناتا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، پاکستانی مسلمان بچہ جنوب ایشیا کے دوسرے مسلمان بچوں کے مقابلے میں زیادہ مراعات یافتہ ہے، کیونکہ وہ شروع ہی سے عربی حروف سے مانوس ہوتا ہے۔ اس لیے حفظِ قرآن زیادہ آسان ہوتا ہے، اور جوانی میں وہ بغیر بڑی مشکلات کے دینی علم کے دیگر شعبے بھی سیکھ سکتا ہے۔
لیکن انگریزی زبان کے پھیلاؤ کا سب سے تباہ کن اثر وہ ہے جسے ثقافتی سامراج کہا جاتا ہے۔ ثقافتی سامراج کا مطلب ایک کمزور معاشرے پر اجنبی ثقافت کا غلبہ ہے۔ برطانیہ کے چلے جانے کے بعد بھی پاکستانیوں کو اس کے اثرات کا سامنا ہے، اور یہ مسئلہ محض عربی حروف بھول جانے سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے لکھا، انگریزی کافروں کی زبان ہے اور اس کے ذریعہ وہ اپنے افکار کو پھیلاتے ہیں۔ نسائیت، سیکولاریت، لادینیت اور الحاد کی مشہور کتابیں اکثر انگریزی میں لکھی گئیں ہیں، اور ان کے نظریات سماجی ذرائع ابلاغ اور ویب سائٹوں کے ذریعے پھیلائے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں علماء کرام کی کتابیں اور تحریریں اردو میں ہیں، اور اردو کے زوال سے ان میں دلچسپی کم ہوجائے گی۔ اس صورتحال کے باعث پڑھے لکھے پاکستانی نوجوان دین اسلام کے مقابلے میں مغربی افکار سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جو ان کے ایمان کے لیے خطرناک ہے۔ وہ مغربی رجحانات کو زیادہ اہمیت دیں گے اور مذہبی امور سے دور ہوتا جائیں گے۔ اسے مغرب کی فحاشی دین اسلام سے زیادہ دلکش لگتی ہے۔ پاکستانی لڑکا زنا کی طرف مائل ہوگا جبکہ پاکستانی لڑکی بےپردگی کی طرف راغب ہوگی۔ یوں معاشرے میں یہ گندا ثقافتی مرض پھیلتا جاتا ہے، اور آخرکار اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے انگریزی کے پھیلاؤ کو نظر انداز کیا۔
پاکستانی اسلام پسندوں کے لیے یہ بھی باعث شرم ہے کہ وہ اس مسئلے کو وہ اہمیت نہیں دیتے ہیں جس کا یہ مستحق ہے، بلکہ کچھ مذہبی لوگ بھی انگریزی میں لکھنے اور بولنے لگے ہیں۔ یہ لوگ مشرق وسطیٰ کے سیکولر افراد پر مغربی اثرات کا الزام لگاتے ہیں، حالانکہ وہاں کے لوگ کم از کم اپنی زبانوں (عربی یا ترکی) میں بات کرتے ہیں، جبکہ پاکستانی اسلام پسند انگریزی کا استعمال کرتے ہیں۔ تو بتائیں، زیادہ متاثر کون ہے؟ یہ بات معقول نہیں ہے کہ آپ مغربی زبان کے ذریعے مغرب سازی کے خلاف جدوجہد کریں۔ زبان کوئی معمولی چیز نہیں، بلکہ یہ ذہنیت کو تشکیل دیتی ہے۔ انگریزی کے دلدادہ پاکستانی خود کو ایک الگ دنیا میں پاتے ہیں جو باقی پاکستان سے مختلف ہے۔ انگریزی بولنے والی دنیا کا پاکستان سے نہ مذہبی، نہ نسلی، نہ جغرافیائی، اور صرف بہت کم تاریخی تعلق ہے۔ وہ ایسے افکار سے متاثر ہوجاتے ہیں جن کی پاکستان میں کم موجودگی ہے۔ آخرکار وہ “دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا” کی مثال بن جاتے ہیں، اور یہ انتہائی بدنصیب انجام ہے۔ پاکستان میں ایک ایسی نسل پیدا ہو رہی ہے جس کا اپنے ملک سے تعلق کمزور ہے اور جس کی واحد خواہش ملک چھوڑنا ہے۔ وہ اس بات پر قائل نہیں کہ پاکستان میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جن کی حفاظت ضروری ہے، کیونکہ وہ اپنے ہی ملک کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ اجنبی اور پردیسی انگریزی زبان کا پھیلاؤ اس میں بڑا کردار ادا کرتا ہے، اور اس کے خلاف جدوجہد اس نسل کی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔
رسول الله (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: “مَن دَلَّ على خَيرٍ فله مِثلُ أجرِ فاعِلِه”، یعنی “جس نے نیکی کی طرف رہنمائی کی تو اس کو اس نیکی کا کام کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔” اس مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ جو انگریزی کے خلاف جدوجہد کرے گا، اسے اجر ملے گا کہ اس نے فواحش اور کفری افکار کے پھیلاؤ کے خلاف کام کیا ہے۔ ہر سچے پکے مسلمان کو اجر حاصل کرنے کا یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ علماء کرام اور پاکستان کی تمام مذہبی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ عملی اقدامات کریں تاکہ بچوں کے لیے انگریزی تعلیم کو نصاب سے نکالا جائے اور سرکاری اور عسکری ادارے بھی انگریزی کا استعمال ترک کریں۔ مزید یہ کہ کوشش کی جائے کہ اردو کو انگریزی کے دخیل الفاظ سے پاک کیا جائے اور اصل اردو رسم الخط کو فروغ دیا جائے، نہ کہ رومن اردو کو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی قوم اپنی زبانوں کے لیے ویسی ہی غیرت دکھائے جیسی دوسری اقوام دکھاتی ہیں۔
What about those folks who are against Urdu on the basis of linguistic nationalism (لسانی عصبیت)? They claim that Urdu was never spoken by their ancestors, and that they seek to revive their native language and demand its removal? This is in spite of the fact that Urdu is spoken by Muslims throughout the subcontinent as a common tongue, and that its function was never to undermine native languages to begin with.